Urdu Deccan

Monday, November 29, 2021

پرتو روہیلہ

 یوم پیدائش 23 نومبر 1932


اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گا

بے امن خرابوں میں سفر کون کرے گا


خورشید جو ڈوبیں گے ابھرنے ہی سے پہلے

اس تیرگیٔ شب کی سحر کون کرے گا


چھن جائیں سر راہ جہاں چادریں سر کی

اس ظلم کی نگری میں بسر کون کرے گا


جس دور میں ہو بے ہنری وجہ سیادت

اس دور میں تشہیر ہنر کون کرے گا


اڑ جائیں گے جنگل کی طرف سارے پرندے

مینارۂ لرزاں پہ بسر کون کرے گا


اس خوف مسلسل میں گزر ہوگی تو کیوں کر

سولی پہ ہر اک رات بسر کون کرے گا


مژدہ مجھے جینے کا بھلا کس نے دیا تھا

مجھ کو مرے مرنے کی خبر کون کرے گا


پرتو روہیلہ


سلطان سکون

 یوم پیدائش 23 نومبر 1932


ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ

ستارے توڑ کے لائے گا آسمان سے وہ


نہ ہم کو پار اتارا نہ آپ ہی اترا

لپٹ کے بیٹھا ہے پتوار و بادبان سے وہ


ہماری خیر ہے عادی ہیں دھوپ سہنے کے ہم

ہوا ہے آپ بھی محروم سائبان سے وہ


تمام بزم پہ چھایا ہوا ہے سناٹا

اٹھا ہے شخص کوئی اپنے درمیان سے وہ


ابھی تو رفعتیں کیا کیا تھیں منتظر اس کی

ابھی پلٹ کے بھی آیا نہ تھا اڑان سے وہ


ہزار میلا کیا دل کو اس کی جانب سے

کسی بھی طور اترتا نہیں ہے دھیان سے وہ


اب اس کی یاد اب اس کا ملال کیسا ہے

نکل گیا جو پرے سرحد گمان سے وہ


وہ جس سکونؔ کا اب آپ پوچھنے آئے

چلا گیا ہے کہیں اٹھ کے اس مکان سے وہ


سلطان سکون


شازیہ نیازی

 وحشت جب التجاؤں کے حصے میں آگئی

زاری پھٹی رداؤں کے حصے میں آگئی


اک شہر تیرے نام سے منسوب ہوگیا

تہذیب میرے گاؤں کے حصے میں آگئی


ایڑی رگڑ کے ہار گئے آج کے عوام

اور جیت رہمناؤں کے حصے میں آگئی


عشق و وفا کی راہ تباہی شعار ہے

میں کس طرح بلاؤں کے حصے میں آگئی


ناداں سپاہی جنگ میں دل ہار کر گیا

تلوار میرے پاؤں کے حصے میں آگئی


اک بیج کی، شکم میں جو بنیاد پڑگئی

دولت وفا کی ، ماؤں کے حصے میں آگئی


شازیہ نیازی


ضیاء المصطفیٰ ترک

 یوم پیدائش 29 اگست 1976


آئنہ اس کو اور خیال مجھے

عیب جیسا ہے یہ کمال مجھے


نام لے کر پکارتے ہیں رنگ 

روک لیتی ہے ڈال ڈال مجھے 


یاد ہو کوئی دن بھلا کیسے 

بھول جاتے ہیں ماہ و سال مجھے


جانے پھر کس طرف نکل جاؤں

ارے آزردگی! سنبھال مجھے 


یہی میں ہوں اگر بفرض ِ محال

خوش نہیں آئے خدّو خال مجھے


دیکھ تو کتنا تنگ ہے مجھ کو 

اس بدن سے کہیں نکال مجھے 


اوڑھ رکھا ہے مجھ کو گدڑی نے

ہے بچھائے ہوئے پیال مجھے 


کہیں بارش میں رکھ گھڑی بھر کو

دھوپ میں تھوڑی دیر ڈال مجھے


ماند پڑنے لگی ہے میری چمک 

اپنے ہاتھوں میں رکھ ، اُجال مجھ


ضیاء المصطفیٰ ترک


انا دہلوی

 کون کہتا ہے زمانے کے لئے زندہ ہوں

میں تو بس آپ کو پانے کے لئے زندہ ہوں


آپ فرمائیں ستم شوق سے پھر بھی میں تو

آپ کے ناز اٹھانے کے لئے زندہ ہوں


کون اس دور میں ہوتا ہے کسی کا ساتھی

زندگی تجھ کو نبھانے کے لئے زندہ ہوں


جو ترے پیار کا صدیوں سے ہے واجب مجھ پر 

ہاں وہی قرض چکانے کے لئے زندہ ہوں


حاکم وقت نے جو آگ لگائی ہے یہاں

میں وہی آگ بجھانے کے لئے زندہ ہوں


جو ترقی پہ نئے لوگوں کی جلتے ہیں اناؔ

میں انہیں ہوش میں لانے کے لئے زندہ ہوں


انا دہلوی


بشری اعجاز

 محبت میں کوئی صدمہ اٹھانا چاہئے تھا

بھلایا تھا جسے وہ یاد آنا چاہئے تھا


گری تھیں گھر کی دیواریں تو صحن دل میں ہم کو

گھروندے کا کوئی نقشہ بنانا چاہئے تھا


اٹھانا چاہئے تھی راکھ شہر آرزو کی

پھر اس کے بعد اک طوفان اٹھانا چاہئے تھا


کوئی تو بات کرنا چاہئے تھی خود سے آخر

کہیں تو مجھ کو بھی یہ دل لگانا چاہئے تھا


کبھی تو اہتمام آرزو بھی تھا ضروری

کوئی تو زیست کرنے کا بہانا چاہئے تھا


مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا

مجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا


بشریٰ اعجاز


بشری فرخ

 بظاہر تجھ سے ملنے کا کوئی امکاں نہیں ہے

دلاسوں سے بہلتا یہ دل ناداں نہیں ہے


چمن میں لاکھ بھی برسے اگر ابر بہاراں

تو نخل دل ہرا ہونے کا کچھ امکاں نہیں ہے


وہ اک دیوار ہے حائل ہمارے درمیاں جو

کسی روزن کا اس میں اب کوئی امکاں نہیں ہے


اگرچہ کھا گئی دیمک غموں کی بام و در کو

مگر ٹوٹی ابھی تک یہ فصیل جاں نہیں ہے


تمہاری روح بشریؔ قید ہے تن کے قفس میں

اسے آزاد کرنا معجزہ آساں نہیں ہے


بشریٰ فرخ


ساغر صدیقی

 یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں


تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں

ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں


دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو

مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں


مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں

آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں


کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر

آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں


حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغرؔ

سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں


ساغر صدیقی


حسن عباس رضا

 یوم پیدائش 20 نومبر 1951


آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد

تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد


کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا

دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد


دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی

پہنچی دکھوں کی آنچ تو دنیا تمام شد


شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے

کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام شد


عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آ پڑا

مجنوں کے دل سے حسرت لیلیٰ تمام شد


ہم شہر جاں میں آخری نغمہ سنا چلے

سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد


اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسنؔ

ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد


حسن عباس رضا


خواجہ ساجد

 یوم پیدائش 21 نومبر 1968


کوئی شیشہ نہ در سلامت ہے 

گھر مرا دشت کی امانت ہے 


سارے جذبوں کے باندھ ٹوٹ گئے 

اس نے بس یہ کہا اجازت ہے 


جان کر فاصلے سے ملنا بھی 

آشنائی کی اک علامت ہے 


اس سے ہر رسم و راہ توڑ تو دی 

دل کو لیکن بہت ندامت ہے 


روبرو اس کے ایک شب جو ہوئے 

ہم نے جانا کہ کیا عنایت ہے 


دو قدم ساتھ چل کے جان لیا 

کیا سفر اور کیا مسافت ہے 


کل سیاست میں بھی محبت تھی 

اب محبت میں بھی سیاست ہے 


رات پلکوں پہ دل دھڑکتا تھا 

تیرا وعدہ بھی کیا قیامت ہے


خواجہ ساجد


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...