Urdu Deccan

Thursday, December 2, 2021

عمران عاشر

 یوم پیدائش 01 دسمبر 


بند کر اِک نام کی ہر روز تھاپ

بس دلا اب اور نہ اُس کو الاپ


اُس نے میرا ہاتھ پکڑا اور لکھا

تم مرے ہو اور آگے فُل سٹاپ


اب تو صحرا ہے یہاں دریا بھی تھا

دیکھ لے آنکھوں سے اب اٹھتی یہ بھاپ


ایک کتے کی بجھائی پیاس اور

ایک پُن سے دھل گئے سارے ہی پاپ


زیست کے کُرتے کا کالر اور ہے

اور مری گردن کا عاشر اور ناپ


  عمران عاشر


رفیق سندیلوی

 یوم پیدائش 01 دسمبر 1961


مَیں تیری آگ کے اندر اُتر کے دیکھوں گا

جَلوں گا اور کرشمے ہُنر کے دیکھوں گا


تُجھے پتا چلے آبِ رواں کو کیا دُکھ ہے

مَیں ایک دن تُجھے چھاگل میں بھر کے دیکھوں گا


مِلاؤں گا نئے اجزا ترے مُرکّب میں

دوبارہ حُسن کی تشکیل کر کے دیکھوں گا


مرا مزاج کُہستانی ہے مگر پھر بھی

 ہَوا میں ریت کی صورت بکھر کے دیکھوں گا


ہمیشہ مَیں نے تُجھے سَرسَری ہی دیکھا ہے

حجاب اُٹھاؤں گا اور آنکھ بھر کے دیکھوں گا


 تری تہوں میں پڑا ہی نہیں رہوں گا مَیں

بس ایک جست بھروں گا، اُبھر کے دیکھوں گا 


ہمیشہ متن کا کچھ حصّہ چھوٹ جاتا ہے 

سو آج شب تری تلخیص کر کے دیکھوں گا


رفیق سندیلوی


یوسف ظفر

 یوم پیدائش 01 دسمبر 1914


صبح نو مغرب میں ہے بیدار بیداروں کے ساتھ

اور ہم گردش میں ہیں بے نور سیاروں کے ساتھ


چیختی کرنیں فضا کی دل کشی کو لے اڑیں

دھوپ سایوں سے لگی ہے سائے دیواروں کے ساتھ


دوش پر قابیل کے ہے لاش پھر ہابیل کی

لمحے قبریں کھودتے ہیں اپنی منقاروں کے ساتھ


نار نمرود اور گلزار براہیم ایک ہے

پھول بھی لو دے رہے ہیں آج انگاروں کے ساتھ


دیکھ اے چشم زلیخا قدر اپنے پیار کی

آج پھر یوسف کے بھائی ہیں خریداروں کے ساتھ


آل موسیٰ نے کیا عیسیٰ کو پھر بالائے دار

ہیں حواری بھی یہودی سنگ دل یاروں کے ساتھ


قبلۂ اول صلاح الدین ایوبی کو ڈھونڈ

آ ملی دیوار گریہ تیری دیواروں کے ساتھ


اے مسیحا زہر دے لیکن نہ دست غیر سے

یہ ستم اللہ اکبر اپنے بیماروں کے ساتھ


اس سیاست کی فضا میں سانس لینا ہے عذاب

دشمن اپنے ساتھ ہیں اغیار ہیں یاروں کے ساتھ


کربلا میں یکہ و تنہا حسین ابن علی

تعزیے شہروں میں ہیں لاکھوں عزاداروں کے ساتھ


دوستی کا حشر دیکھا تو کھلا ہم پر ظفرؔ

حشر میں کھل کر کریں گے دشمنی پیاروں کے ساتھ


یوسف ظفر


تابش رامپوری

 اک پیکرِجمال کی تنویر دیکھ کر

تصویر ہوگیا ہوں میں تصویر دیکھ کر


دل چاہتا ہے زلفِ گرہ گیر ہی رہوں 

اے شوخ تیر ے زلف کی زنجیر دیکھ کر


جنت کو دیکھنے کی تمنا جواں ہوئی

لوٹے ہیں جب سے وادئِ کشمیر دیکھ کر


صنفِ ادب میں نثر کو بھی اہمیت ملی

شبلی , حسین , حالی کی تحریر دیکھ کر


سپنے ہمارے پاس ہیں اور نیند اس کے پاس

شرمندہ ہم ہیں خواب کی تعبیر دیکھ کر


کیف و سرور پر ہے اجارہ امیر کا

پروائیاں بھی چلتی ہیں جاگیر دیکھ کر


عالم تمام حلقۂ احباب ہو گیا

تابش ترے کلام کی توقیر دیکھ کر


تابشِ رامپوری 


Tuesday, November 30, 2021

عاصم اعجاز

 یوم پیدائش 29 نومبر 1971


ترے بیمار سے الجھا ہوا ہے 

مرے محسن کو جانے کیا ہوا ہے 


سفینہ ساحلوں تک آ تو جائے 

ہوا نے راستہ بدلا ہوا ہے 


فضا میں تشنگی پھیلی ہوئی ہے 

مسافر دشت میں ٹھہرا ہوا ہے 


اکٹھے گھومتے ہیں قیس و لیلیٰ 

زمانہ اسقدر بدلا ہوا ہے 


میں اب تک گر گیا ہوتا زمیں پر 

کسی کے ہاتھ نے تھاما ہوا ہے 


تری جانب قدم اٹھتے نہیں ہیں 

مجھے حالات نے روکا ہوا ہے 


ادھوری خواہشیں کب تک سمیٹوں 

یہ ملبہ دور تک بکھرا ہوا ہے 


 اندھیروں کا ہمارے گھر کے عاصمؔ 

پس دیوار بھی چرچا ہوا ہے


عاصم اعجاز


ظریف جبلپوری

 یوم پیدائش 30 نومبر 1913


نمائش کا سجدہ


فرشتوں کو جب سے عداوت نہیں ہے

محبت ابھی تک محبت نہیں ہے 


اگر عاشقی میں سیاست نہیں ہے

حسینوں کے دل پر حکومت نہیں ہے


جھکانے کو ہر درد پہ سر تو جھکا دوں

نمائش کا سجدہ عبادت نہیں ہے


میں عاشق ہو مفلس ہوں ہے چاکدامن

مگر میرے چہرے پہ وحشت نہیں ہے


وہ اتوار کو مجھ سے مل جائیں آکر

سنیچر کے دن نیک ساعت نہیں ہے


مجھے میرے سرکار دفتر ہے پیارا 

مجھے دل لگانے کی فرصت نہیں ہے


عجب کار فرما ہے ان کا تصور

کہ فرقت بھی رنج فرقت نہیں ہے


مجھے ناز بردار اپنا بنا لو

تمہاری سمجھ میں نزاکت نہیں ہے


میرے غم کدے میں نہ بجلی نہ بتی

دل جل رہا ہے تو ظلمت نہیں ہے


الٹ دیں امیروں کا یہ تخت شاہی

فقیروں کی ڈنڈے میں طاقت نہیں ہے


تمہاری ہی خاطر یہ قربانیاں ہیں

رقیبوں سے بھی مجھ کو عداوت نہیں ہے


لکھا نام اپنا وردی پہن جنگ پر جا

ذرا تجھ کو شوق شہادت نہیں ہے


اٹھالے بیاباں وحشت کو سر پر 

محبت میں کیا اتنی طاقت نہیں ہے


مرا خانہء دل دیکھا تو بولے

ہے ویسے تو اچھا کھلی چھت نہیں ہے


ظریف ایسی الفت سے باز آئے ہم تو

کہ جسمیں مصیبت ہے راحت نہیں ہے


ظریف جبلپوری


مولانا عامر عثمانی

 یوم پیدائش 30 نومبر 1920


عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے

آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے


آزمائشیں اے دل سخت ہی سہی لیکن

یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے


عمر جتنی بڑھتی ہے اور گھٹتی جاتی ہے

سانس جو بھی آتا ہے لاش بن کے جاتا ہے


آبلوں کا شکوہ کیا ٹھوکروں کا غم کیسا

آدمی محبت میں سب کو بھول جاتا ہے


کارزار ہستی میں عز و جاہ کی دولت

بھیک بھی نہیں ملتی آدمی کماتا ہے


اپنی قبر میں تنہا آج تک گیا ہے کون

دفتر عمل عامرؔ ساتھ ساتھ جاتا ہے


عامر عثمانی


زین احترام

 چار دن کی یہ زندگانی ہے

موت بر حق ہے سب کو آنی ہے


پھر یہ طاقت نہیں رہے شاید

 کر لے سجدے ابھی جوانی ہے


عقل کہتی رہی خسارہ ہے

عشق نے بات کس کی مانی ہے


 گفتگو نے بتا دیا اس کی

مفلسی میں بھی خاندانی ہے


زین تو روح کو سنوارا کر

روح باقی ہے جسم فانی ہے


زین احترام


کاشف ظریف

 یوم پیدائش 29 نومبر 


لقمہ ذرا حرام کا ٹھونسا نہ پیٹ میں

اس نے ہوس تو ڈالنی چاہی پلیٹ میں


اس کے لبوں کا میٹھا مِرے منہ میں بھر گیا

اتنی نہیں مٹھاس ملی چاکلیٹ میں


میں آگ ہوں جو مجھ کو سمجھتا ہے آبِ جو

آئے گا ایک روز وہ میری لپیٹ میں


پرکھوں کی یادگار ہے سونے سا ظرف یہ

اور مانگتے ہو تم اسے پیتل کے ریٹ میں


اس کو کھنڈر نہ جان یہی تھا کبھی محل

چمگادڑیں ہو دیکھتے جس خستہ گیٹ میں


وہ ہٹ گیا رسولِ محبت کی راہ سے

انسانیت کا قتل جو کرتا ہے ہیٹ میں


کاشف ظریف


سید مرتضی بسمل

 یوم پیدائش 29 نومبر


درد ہے وحشت ہے اور دل کا عذاب

ہر طرف ظلمت ہے اور دل کا عذاب


کچھ خزانہ ہے نہیں اس کے بغیر

دیکھ لو، فرقت ہے اور دل کا عذاب


یہ اذیت ختم ہو سکتی نہیں

تا ابد آفت ہے اور دل کا عذاب


پاس میرے نوکری جب ہے نہیں

لازمی ذلّت ہے اور دل کا عذاب


ہے اثاثہ زندگی کا بس یہی

یاد ہے خلوت ہے اور دل کا عذاب


یہ عذابِ مرگ بسمل کچھ نہیں

بس کٹھن چاہت ہے اور دل کا عذاب


سید مرتضیٰ بسمل


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...