Urdu Deccan

Thursday, December 30, 2021

ناصر امروہوی

 یوم پیدائش 23 دسمبر 1964


ممکن جہاں نہیں تھی وہاں کاٹ دی گئی 

کچھ دن کی زندگی تھی میاں کاٹ دی گئی 


مفلس جو تھے وہ پیاس کی شدت سے مر گئے 

محلوں کی سمت جوئے رواں کاٹ دی گئی 


میں نے بلند کی تھی صدا احتجاج کی 

پھر یوں ہوا کہ میری زباں کاٹ دی گئی 


تیری زمیں پہ سانس بھی لینا محال تھا 

مجبور ہو کے زیست یہاں کاٹ دی گئی 


میری سزائے موت پہ اک جشن تھا بپا

وہ شور تھا کہ میری فغاں کاٹ دی گئی 


دست ہنر پہ نوک سناں پر غرور ہے 

لیکن جری جو نوک سناں کاٹ دی گئی 


پہلے تو بات بات پہ ٹوکا گیا مجھے 

پھر تنگ آ کے میری عناں کاٹ دی گئی 


ناصر امروہوی


ریاض لطیف

 یوم پیدائش 23 دسمبر 1964


دنیا سے پرے جسم کے اس باب میں آئے 

ہم خود سے جدا ہو کے ترے خواب میں آئے 


کچھ ایسے بھی ہموار کی ہر سطح کو اپنی 

موجوں کی طرح ہم ترے پایاب میں آئے 


ان کو بھی ابد کے کسی ساحل پہ اتارو 

وہ لمس جو اس رات کے سیلاب میں آئے 


اک نقش تو ٹھہرا تھا روانی کے بدن پر 

جب بن کے بھنور ہم ترے گرداب میں آئے 


بکھراؤ کے شہپر پہ ہم اترے پہ زمیں پر 

کچھ پھیل کے اس نقطۂ نایاب میں آئے 


تھے غیب کے تیشے سے تراشے ہوئے ہم تب 

انگڑائی کی صورت تری محراب میں آئے 


ریاض لطیف


حمیدہ معین رضوی

 یوم پیدائش 23 دسمبر 1943


منزل پہ پہنچنے کو تاروں پہ نظر رکھتے

جب شہر بسایا تھا رستوں کی خبر رکھتے


کہتے ہو اندھیرا ہے کوئی نہیں چہرہ ہے

ایمان یقیں ہوتا آنکھوں میں سحر رکھتے


الزام تراشی سے اب کچھ بھی نہیں حاصل

جب آئے غنیم اندر لڑنے کا ہنر رکھتے


اس قحط رجالاں میں قائد بھی نہیں ملتے

جو قافلۂ دل کو مائل بہ سفر رکھتے


ہم خاک کے ذروں کی صورت میں پریشاں ہیں

طاقت کو جمع کرتے تو برق و شرر رکھتے


ہم سب سگ مایہ ہیں ہڈی پہ جھپٹتے ہیں

ایسے میں کسی پر کیا اب خاک اثر رکھتے


صحرا کی تپش ہر سو کرگس کا بسیرا ہے

ہر شے جو جلا دی ہے کچھ باقی شجر رکھتے


اک مرگ مسلسل ہے افکار ہیں یخ بستہ

صحرا کی حرارت کو شعلوں سا جگر رکھتے


حمیدہ معین رضوی


مظفر فاروقی

 یوم پیدائش 23 دسمبر 1933


آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں

میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ وہ دنیا تو نہیں


روح کو درد ملا درد کو آنکھیں نہ ملیں

تجھ کو محسوس کیا ہے تجھے دیکھا تو نہیں


رنگ سی شکل ملی ہے تجھے خوشبو سا مزاج

لالہ و گل کہیں تیرا ہی سراپا تو نہیں


چہرہ دیکھوں تو خد و خال بدل جاتے ہی

چھپ کے آئینے کے پیچھے کوئی بیٹھا تو نہیں


پھینک کر مار زمیں پر نہ زمانے مجھ کو

ٹوٹ ہی جاؤں گا جیسے میں کھلونا تو نہیں


زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا تو نہیں


میری آنکھوں میں ترے نقش قدم کیسے ہیں

اس سرائے میں مسافر کوئی ٹھہرا تو نہیں


سوچتے سوچتے دل ڈوبنے لگتا ہے مرا

ذہن کی تہ میں مظفرؔ کوئی دریا تو نہیں


مظفر وارثی


انیس الرحمان

 یوم پیدائش 22 دسمبر 1950


ہجر سے بات کی وصال کے بعد 

اب کے آنا تو ماہ و سال کے بعد 


جیسے آیا تھا ماضی حال کے بعد 

کیا جنوب آئے گا شمال کے بعد 


بات سے بات چلتی رہتی ہے 

ختم ہو جاتی ہے مثال کے بعد 


اک خموشی حصار کی مانند 

پہلے اور آخری سوال کے بعد 


ایک سیل ملال ہر جانب 

اک ملال اور اک ملال کے بعد 


اک خموشی رواں دواں ہر سو 

کیا خموشی ہے قیل و قال کے بعد 


اس کی صورت گری میں روز و شب 

خواب ہم دیکھتے خیال کے بعد 


دست و بازو میں آسمان و زمیں 

اور کیا فال نیک فال کے بعد 


"مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے "

زندگی یہ تو احتمال کے بعد


انیس الرحمان


عرفی آفاقی

 یوم پیدائش 22 دسمبر 1936


وہ دھیان کی راہوں میں جہاں ہم کو ملے گا

بس ایک چھلاوے سا کوئی دم کو ملے گا


انجانی زمینوں سے مجھے دے گا صدا وہ

نیرنگ نوا شوق کی سرگم کو ملے گا


میں اجنبی ہو جاؤں گا خود اپنی نظر میں

جس دم وہ مرے دیدۂ پر نم کو ملے گا


جو نقش کہ ارژنگ زمانہ میں نہیں ہے

اس دل کے دھڑکتے ہوئے البم کو ملے گا


رت وصل کی آئے گی چلی جائے گی لیکن

کچھ رنگ تو یوں ہجر کے موسم کو ملے گا


یہ دل کہ ہے ٹھکرایا ہوا سارے جہاں کا

گھر ایک یہی ہے جو ترے غم کو ملے گا


پتھر ہے تو ٹھوکر میں رہے پائے طلب کی

دل ہے تو اسی طرۂ پر خم کو ملے گا


گر شیشۂ مے ہے تو ہو اوروں کو مبارک

ہے جام جہاں بیں تو فقط جم کو ملے گا


لہراتے رہیں گے چمنستاں میں شرارے

خار و خس و خاشاک ہی عالم کو ملے گا


معلوم ہے عرفیؔ جو ہے قسمت میں ہماری

صحرا ہی کوئی گریۂ شبنم کو ملے گا


عرفی آفاقی


واحد کشمیری

 یوم پیدائش:-21 ڈسمبر 1977 کی پر خلوص مبارکباد


درد تنہائی تڑپ آہ و بکا دے کر گیا

زندگی بھر کے لئے اک مسئلہ دے کرگیا


اشتہارِ خفتگی لٹکا ہوا ہے بام پر

کیا امیرِ شہر تھا کیاحوصلہ دے کر گیا


اور جب آیا تو دستک کے بنا داخل ہوا

روح اور خاکی بدن کو فاصلہ دے کرگیا 


ہم انا کی آڑ میں غیرت کے سودا گر ہوئے

کون ایسی بد مزاجی برملا دے کر گیا


ہم روابط کے لئے تو اس قدر راضی نہ تھے

دل بڑا بے صبر نکلا حادثہ دے کر گیا


ہائے رے واحد تری کمسِن مزاجی دیکھ لی

کس طرح اہل جفا کو تُو وفا دے کر گیا

‌

واحد کشمیری


شمیم روش

 یوم پیدائش 21 دسمبر 1956


آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے


سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی

مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے


ہر صبح چہچہاتی ہے چڑیا منڈیر پر

ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے


ممکن ہے اس کا وصل میسر نہ ہو مجھے

لیکن اس آرزو سے مرا گھر چمن تو ہے


ہر وقت محو رقص ہے چہرہ خیال میں

بے ربط زندگی ہے مگر دل مگن تو ہے


ہر لمحہ اس سے رہتا ہوں مصروف گفتگو

کہنے کو میرے ساتھ کوئی ہم سخن تو ہے


میرے لیے یہ بات ہی کافی ہے اے روشؔ

کچھ بھی ہو مجھ میں اب بھی مرا اپنا پن تو ہے


شمیم روش


ناصر شہزاد

 یوم پیدائش 21 دسمبر 1937


دل سے حصول زر کے سبھی زعم ہٹ گئے

فکر معاش بڑھ گئی خانوں میں بٹ گئے


پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یونہی بچھڑ گیا

پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یونہی کٹ گئے


کھینا سکھی سکھی نہ سجن کی طرف مجھے

لینا سکھی سکھی مرے پاؤں رپٹ گئے


آئینہ اس کو دیکھ کے مبہوت ہو گیا

گلدان میں گلاب لجا کر سمٹ گئے


اخروٹ کھائیں تاپیں انگیٹھی پہ آگ آ

رستے تمام گاؤں کے کہرے سے اٹ گئے


آنے دیا نہ میرے بزرگوں نے حق پہ حرف

میدان کربلاؤں کے لاشوں سے پٹ گئے


ڈالی ندی میں ناؤ نہ برگد کے نیچے پینگ

تو کیا گیا پلٹ کے وہ سب دن پلٹ گئے


کھادیں لگیں تو چھوڑ گئیں کھیت تتلیاں

فصلیں بڑھیں تو ڈار پرندوں کے گھٹ گئے


اس سے ملی نظر تو لرزنے لگا بدن

دیدے سکھی ری دیکھ کے پریتم کو پھٹ گئے


تو شانت ہو کہ تیری مرادیں ہوئیں سپھل

بادل گرج برج کے جو آئے تھے چھٹ گئے


دیکھا تو اس کے تن پہ گرے کیوڑے کے پھول

پاؤں سے آبشار کے پانی لپٹ گئے


ناصر شہزاد


ساقی فاروقی

 یوم پیدائش 21 دسمبر 1936 


دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی

یہ صبر کا مقام ہے گریہ نہ کر ابھی


جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے

وہ ہاتھ سو گیا ہے تقاضا نہ کر ابھی


نظریں جلا کے دیکھ مناظر کی آگ میں

اسرار کائنات سے پردا نہ کر ابھی


یہ خامشی کا زہر نسوں میں اتر نہ جائے

آواز کی شکست گوارا نہ کر ابھی


دنیا پہ اپنے علم کی پرچھائیاں نہ ڈال

اے روشنی فروش اندھیرا نہ کر ابھی



ساقی فاروقی

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...