Urdu Deccan

Monday, November 21, 2022

زاہدہ شمسی

یوم پیدائش 02 نومبر 1972

پہلے مسرور تھا ، غم سے اب چور ہے
وہ بھی دل کو بنائے ہوئے طور ہے

بس صداقت کی محفل سجایا کرو
سر کٹانا اگر تم کو منظور ہے

کردیا سامنے سب کے رسوا مجھے
میری غزلوں کو پڑھ کر جو مشہور ہے

مت سناؤ محبت کی رنگیں غزل
میرا پردیسی ساجن بہت دور ہے

غم ہی ملتا ہے شمسی رہِ عشق میں
زندگانی کیا ، یہ تو دستور ہے

زاہدہ شمسی


 

مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

یوم پیدائش 02 نومبر 1958

خامہ ناقص میں بھی دریا سی روانی لکھ دے
اے قلم نعتِ محمدؐ کے معانی لکھ دے

میری نسبت ہے بلالی تو مجھے خوف کہاں 
سر محمدؐ پہ بھی قربان جوانی لکھ دے

بے قراری نے تَجَسُّس سے نمو پائی ہے 
بس مدینے کی فضا شام سہانی لکھ دے

قلبِ بیمار کو دیدارِ محمدؐ کی طلب 
زیست میں ایک حقیقی یہ کہانی لکھ دے

کاش وہ کوچہِ انوار فضائیں دیکھوں
خشک ہونٹوں پہ مدینے کا تو پانی لکھ دے

ہر ادا ہو بھی محمدؐ کے غلاموں کی طرح
کوئی اجداد کی معروف نشانی لکھ دے

اب لیے جاتا نہیں عشق کہیں اور مجھے
ان کی مل جائے اگر قید سہانی لکھ دے

نالہ ارشدؔ کا یہی کاتبِ تقدیر سدا 
پس مقدر میں وہاں نقل مکانی لکھ دے

مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی


 

Tuesday, November 1, 2022

قوی خان

یوم پیدائش 01 نومبر 1997

جتنی مہلت ملی، ہے غنیمت یہاں
ساٹھ، پینسٹھ کہ ستر برس، خوش رہو

جو ملا جس قدر بھی ملا خوب ہے
مال و دولت کی چھوڑو ہوس، خوش رہو

کوئی گل تم کو سمجھے یا موتی کوئی
یا ہی سمجھے کوئی خار و خَس، خوش رہو

لاکھ دنیا تمہاری مخالف رہے
تم نہ ہونا مگر ٹس سے مَس، خوش رہو

عشق کا بھی قوی وہ ہی دستور ہے
ہے جو دستورِ قید و قفس، خوش رہو

قوی خان



حرا رانا

یوم پیدائش 01 نومبر 1972

آج پھر سے ترے دیار میں ہوں
یعنی پھر تیرے اختیار میں ہوں

اس کہانی کا یہ ہوا انجام
آج میں دشتِ بے کنار میں ہوں

کوئی رستہ دکھائی دیتا نہیں
دھند کیسی ہے کس غبار میں ہوں

آج کل کس پہ ہے کرم تیرا
میں تو ویسے بھی کس شمار میں ہوں

ہوش کیسےرہےگا دل کو ترا
میں ترے درد کے خمار میں ہوں

ایک دنیا ہے میرے در پہ حراؔ
اور میں تیرے انتظار میں ہوں

حرا رانا



آفاق فاخری

یوم پیدائش 01 نومبر 1956

کیا ضروری کہ گروں میں تو سنبھالے کوئی 
اور مرے پاؤں کا کانٹا بھی نکالے کوئی 

خوشبوؤں کی طرح چاہیں گے زمانے والے 
پہلے کردار کو پھولوں سا بنا لے کوئی 

آج کے دور میں شہرت کی تمنا ہو اگر 
اپنے چہرے پہ کئی چہرے لگا لے کوئی 

اک دیا ہم نے جلایا جو سر راہ گزر 
کر نہ دے اس کو ہواؤں کے حوالے کوئی 

شب کی تاریکی میں بھی نور کا عالم ہوگا 
پہلے پلکوں پہ ستاروں کو سجا لے کوئی 

چاہے تو اپنے ہر اک حسن عمل سے آفاقؔ 
اپنے ماں باپ کی ہر وقت دعا لے کوئی 

آفاق فاخری



نیراعظمی

یوم پیدائش 01 نومبر 1954

اس کے دل میں بھی وفا ہے مجھے معلوم نہ تھا
پھول پتھر پہ کھلا ہے مجھے معلوم نہ تھا

چشمِ ساقی میں نشہ ہے مجھے معلوم نہ تھا
جام خالی بھی بھرا ہے مجھے معلوم نہ تھا

تیری بکھری ہوئی زلفوں کی مہک سے پہلے
سانس بھی بادِ صبا ہے مجھے معلوم نہ تھا

جس کو پانے کے لیے کتنی نقابیں الٹیں
دل کے پردے میں چھپا ہے مجھے معلوم نہ تھا

جو سرِ شام چراغوں کو بجھا دیتی ہے
میرے دامن کی ہوا ہے مجھے معلوم نہ تھا

مفتیِ دین کے فتوے کو نہ فتویٰ سمجھا
تیری رحمت سے بڑا ہے مجھے معلوم نہ تھا

سجدہ ریزی سے تو اچھی تھی مری لاعلمی
کوئی بت ہے کہ خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا

گھپ اندھیرے میں حقیقت ہوئی روشن نیّرؔ
دل کا ہر داغ دیا ہے مجھے معلوم نہ تھا

نیراعظمی



قمر پیامی

یوم پیدائش 01 نومبر 1952

جذبات سے عاری ہے قمر چہرہ بتوں کا
کیا جانیے یہ کونسی مٹی کے بنے ہیں

قمر پیامی



پروین کمار اشک

یوم پیدائش 01 نومبر 1951

سمندر آنکھ سے اوجھل ذرا نہیں ہوتا 
ندی کو ڈر کسی چٹان کا نہیں ہوتا 

وہ جب بھی روتا ہے میں ساتھ ساتھ روتا ہوں 
مزے کی بات ہے اس کو پتا نہیں ہوتا 

مسافروں کے لیے منزلیں ہی ہوتی ہیں 
مسافروں کے لیے راستہ نہیں ہوتا 

تماشا گاہ میں کس کا تماشا ہوتا ہے 
تماش بینوں کو اس کا پتا نہیں ہوتا 

میں روز فون پر اس کو صدائیں دیتا ہوں 
خدا کے ساتھ مرا رابطہ نہیں ہوتا 

جہاں ملیں انہیں سجدہ گزاریئے صاحب 
محبتوں کے لیے سوچنا نہیں ہوتا 

وہاں چراغ جلاتا ہوں زندگی کا اشکؔ 
جہاں ہوا کے لیے راستہ نہیں ہوتا 

پروین کمار اشک



منظر عباس نقوی

یوم پیدائش 01 نومبر 1933

جب تصور میں وہ بادیدۂ تر آتے ہیں
کیسے موتی مرے دامن میں نظر آتے ہیں

وہ بنا دیتے ہیں ہر دشت کو رشکِ گلزار
کوئے جاناں سے جو اک بار گزر آتے ہیں

زیست دشوار سہی غم سے گراں بار سہی
ہم کو مر مر کے بھی جینے کے ہنر آتے ہیں

منظر عباس نقوی



دتا تریہ کیفی

یوم پیدائش 01 نومبر 1955

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے 
ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے 

اک شکل ہے تفنن طبع جمال کی 
اس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے 

خمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کا 
اہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے 

اک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراق 
موج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے 

باوصف ضبط راز محبت ہے آشکار 
عقدہ ہے دل کا عقد ثریا کہیں جسے 

برہم زن حجاب ہے خود رفتگی حسن 
اک شان بے خودی ہے زلیخا کہیں جسے 

عکس صفائے قلب کا جوہر ہے آئینہ 
وارفتۂ جمال خود آرا کہیں جسے 

رم شیوہ ہے صنم تو ہے رم آشنا یہ دل 
حاصل ہے مجھ کو عیش مہیا کہیں جسے 

سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود 
کیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے

دتا تریہ کیفی



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...