Urdu Deccan

Friday, December 23, 2022

فرزانہ نیناں

یوم پیدائش 16 دسمبر 

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا 
پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا 

پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روئی کیوں ہے 
موسم اس نے تو نشہ بار ذرا کرنا تھا 

تلخ لمحے نہیں دیتے ہیں کبھی پیاسوں کو 
سانس کے ساتھ نہ زہراب روا کرنا تھا 

کس قدر غم ہے یہ شاموں کی خنک رنگینی 
مجھ کو لو سے کسی چہرے پہ روا کرنا تھا 

چاند پورا تھا اسے یوں بھی نہ تکتے شب بھر 
یوں بھی یادوں کا ہر اک زخم ہرا کرنا تھا 

دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب 
ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا 

کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی 
درد کی نیلی رگیں دل میں رکھا کرنا تھا

فرزانہ نیناں



عبد الباسط طاہر

یوم پیدائش 16 دسمبر 1966

راز اپنے میں خود سنا بیٹھا
ایک پردہ جو تھا اٹھا بیٹھا

مجھ کو توبہ تھی میکشی سے مگر
ہائے ساقی نظر ملا بیٹھا

لطف و راحت بہشت کے آدم
ایک لذت پہ ہی گنوا بیٹھا

دل کے جنگل میں اس قدر بھٹکا
واپسی کے نشاں مٹا بیٹھا

رت ہے سردی بہار آئے گی
دل کے ارمان سب جگا بیٹھا

سرد موسم پہاڑ برفوں کے
بیج پھولوں کے میں دبا بیٹھا

جسم کا اک طبیب ڈھونڈوں گا
روح کے زخم اب چھپا بیٹھا

دیکھتا کم ہوں کم ہی سنتا ہوں
جب سے آہٹ پہ دل لگا بیٹھا

عبد الباسط طاہر


 

نصرت زہرا

یوم پیدائش 16 دسمبر 1978

نہ رمز میں کسی معنی میں نہ سوال میں ہے 
یہ میرا کھویا ہوا دل ترے خیال میں ہے 

نہ اب سکون ملے نا اسے قرار کہیں 
نہ اب خموش ہے دل اور نہ عرض حال میں ہے 

تری جبیں پہ جو اک بار جگمگایا تھا 
وہ اک ستارہ میرے لمحۂ وصال میں ہے 

پلٹ کے تو نے جو دیکھا تو یوں لگا مجھ کو 
کہ مرے پیار کا حاصل ترے کمال میں ہے 

جو بیقرار تھی کہنے کو وہ زباں گنگ ہے 
نہ زیست رہ گئی اس میں نہ یہ ملال

نصرت زہرا


 

اعظم نصر

یوم پیدائش 16 دسمبر 1958

اس کو عادت تھی مسکرانے کی
بے وجہ بات کو بڑھانے کی

لٹ گئے ہم رہی غلط فہمی
یہ حقیقت تھی اس فسانے کی

اب تو عادت سی ہوگئی جیسے
خوامخواہ اس گلی میں جانے کی

اک تماشہ بنا لیا خود کو
دل لگی بن گئے زمانے کی

عشق میں بھول اک ہوئی اعظم 
اپنی اوقات بھول جانے کی 

اعظم نصر


 

ڈاکٹر خالد جمیل

یوم پیدائش 16 دسمبر 1956

دل بھی خوش ہو کبھی،  یہ آس لیے
لوگ ہنستے ہیں دل  اداس لیے
 
کہہ رہا ہے کٹھن ہے سچ کا مقام
زہر سقراط کا گلاس لیے
 
غم بھی دیتے ہیں اور ہنستے ہوئے
گفتگو میں بڑی مٹھاس لیے

تلخیئے آسماں  پلا دے اُسے
دل سمندر ہے اک پیاس لیے
 
جب بھی پڑتی ہے چوٹ دل پہ مرے
ساز  بجتے ہیں دُھن  اداس لیے
 
دیکھ خاؔلد نہال ہے یہ  چمن
پھول خوشبو ہے آس  پاس لیے

ڈاکٹر خالد جمیل



Thursday, December 22, 2022

خالد رضوی امروہوی

یوم پیدائش 15 دسمبر 1952

مصروفِ ثنا میں ہے ثناخوانِ محمدؐ
ہے نغمہ سرا بلبل بستانِ محمدؐ

خوش رنگ گُل وغنچہ معطّر ہیں فضائیں
صد رشکِ بہاراں ہے گلستانِ محمدؐ

رضواں درِ جنت پہ ہمیں دیکھ کے بولا
آنے دو انہیں یہ ہیں غلامانِ محمدؐ

محشر میں گنہگاروں کی بن جائے گی بگڑی
مل جائے اگر سایۂ دامانِ محمدؐ

معراجِ نبی عرش کی عظمت کا سبب ہے
یوں کہیے یہ ہے عرش پہ احسانِ محمدؐ

رضوی یہ تقاضا ہے غلامی کا نبیؐ کی
جو کچھ بھی لکھو، لکھو بہ عنوانِ محمدؐ

خالد رضوی امروہوی


 

محمد عظیم حاذق

یوم پیدائش 15 دسمبر 1980

نعت
کیا ارض کیا سما ہےکیا ہے ملک ملک
محوِ ثنا ہے ذرہ ذرہ پلک پلک

ظلمت کدہ چمک کر روشن کدہ ہوا
لہرائی جب جہاں میں نازاں الک الک

پائے ہیں تیری شفقت و رحمت کے سائباں
اقصیٰ سے لا مکانی سدرہ تلک تلک

تجھ سے حسین ؓ ہیں اور تو ہے حسین ؓ سے
آ لِ حسین میں بھی تیری جھلک جھلک

بیٹھے ہیں خود زمیں پر چیتھڑ لباس میں
نعلین جن کی ہے یہ سر با فلک فلک

تیری عطا مبارک سب کو مبارکاں ہے
پتھربھی پا گئے ہیں تجھ سے ڈلک ڈلک

سرزور پُر تشدد سرسرنگوں ہوئے
نخوت پہ چھائی ایسی رمز للک للک

آتے ہیں یاد جب بھی حاذق کو وقت وہ
بے ساختہ پڑیں یہ آ نکھیں چھلک چھلک

محمد عظیم حاذق 


 

خالد سجاد

یوم پیدائش 15 دسمبر 1961

جنہیں سفر کے لیے حوصلہ نہیں ملتا 
ہجوم میں بھی انہیں راستہ نہیں ملتا 

برا نہ مان اگر دیکھنے لگا ہوں تجھے 
میں کیا کروں کہ مجھے آئنہ نہیں ملتا 

لگی ہوئی ہے یوں ہی دل کو حرص دنیا کی 
وگرنہ ان سے جو مانگوں تو کیا نہیں ملتا 

میں اپنے گھر سے نکل کر کہاں چلا آیا 
کہ شہر بھر میں کوئی آشنا نہیں ملتا 

عذاب جان بنا ہے یہ شور شہر فشار 
سکوں کے واسطے اب میکدہ نہیں ملتا 

میں کیا کہوں کہ ہوا ہی خلاف ہے میرے 
پلٹ کے آؤں تو در بھی کھلا نہیں ملتا 

کہیں سے روشنی لا دو وگرنہ اب خالدؔ 
وہ گھر جلائیں گے جن کو دیا نہیں ملتا

خالد سجاد



اختر حسین شافی

یوم پیدائش 15 دسمبر 1939

ذوق نظر بڑھائیے گلزار دیکھ کر 
الفت کا سودا کیجئے بازار دیکھ کر 

میں نے جنون عشق سے دامن بچا لیا 
ہر بوالہوس کو تیرا پرستار دیکھ کر 

میرے ہی در پہ تھا کوئی سائل کے روپ میں 
حیرت زدہ رہا مجھے نادار دیکھ کر 

نغمہ سرا نہ ہو سکا گلشن میں عندلیب 
طوفان و برق و باد کے آثار دیکھ کر 

بیتاب دل کو اور ترستی نگاہ کو 
بہلا سکا نہ میں گل و گلزار دیکھ کر 

دل گفتگو کی سمت جھکا شعر بن گئے 
اظہار غم کو روح کا غم خوار دیکھ کر 

ہوش و ہوس کی جنگ میں حیرت زدہ رہا 
جذبوں کا شور عقل کے افکار دیکھ کر 

آنکھوں سے کائنات کے آنسو ٹپک پڑے 
شافی کو اس جہان میں بیمار دیکھ کر 

یاد آ گئیں خرد کو وہ جنت کی لغزشیں 
دل کا جنون و شوق شرر بار دیکھ کر 

ہاتھوں میں دل کے پرچم افکار دے دیا 
انسانیت کو برسر پیکار دیکھ کر

اختر حسین شافی


 

امیتا پرسو رام میتا

یوم پیدائش 15 دسمبر 1955

بن گئے دل کے فسانے کیا کیا 
کھل گئے راز نہ جانے کیا کیا 

کون تھا میرے علاوہ اس کا 
اس نے ڈھونڈے تھے ٹھکانے کیا کیا 

رحمت عشق نے بخشے مجھ کو 
اس کی یادوں کے خزانے کیا کیا 

آج رہ رہ کے مجھے یاد آئے 
اس کے انداز پرانے کیا کیا 

رقص کرتی ہوئی یادیں ان کی 
اور دل گائے ترانے کیا کیا 

تیرا انداز نرالا سب سے 
تیر تو ایک نشانے کیا کیا 

آرزو میری وہی ہے لیکن
اس کو آتے ہیں بہانے کیا کیا 

راز دل لاکھ چھپایا لیکن 
کہہ دیا اس کی ادا نے کیا کیا 

دل نے تو دل ہی کی مانی میتاؔ 
عقل دیتی رہی طعنے کیا کیا

امیتا پرسو رام میتا



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...