Urdu Deccan

Thursday, December 2, 2021

منور بدایونی

 یوم پیدائش 02 دسمبر 1908


داورِحشر کے حضور


 ہے حشر کا دن حاضرِ دربار ہیں بندے

  یارب تری رحمت کے طلبگار ہیں بندے

  

 تو خالقِ عالم ہے سزا دے کہ جزا دے

  مجبور ہیں مجرم ہیں گنہگار ہیں بندے

  

 تو مالک و مختار ہے بخشے کہ نہ بخشے

  شرمندہ ہیں نادم ہیں خطاوار ہیں بندے

  

 ستّار ہے غفّار ہے تو خالقِ کل ہے

  مایوس ہیں معذور ہیں لاچار ہیں بندے

  

 اک جنس گرانمایہ ہے مولا تری رحمت

  بے زر ہیں بڑے مفلس و نادار ہیں بندے

  

 بندوں کا خدا تیرے سوا کون ہے یارب

  انصاف کے تجھ سے ہی طلبگار ہیں بندے

  

 حقّا ترا ہمدم ہے نہ ثانی ہے نہ ہمسر

  کرتے ہیں تری توحید کا اقرار ہیں بندے

  

 دامن میں گناہوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

  لیکن تری رحمت کے طلبگار ہیں بندے

  

 لاریب کے تو وعدہ فراموش نہیں ہے

  جو حکم ہو تعمیل کو تیار ہیں بندے

  

 بندوں کو بھی درکار ہے مولا تری رحمت

  رحمت کو بھی مولا تری درکار ہیں بندے

  

 مایوس منّور ہے ترے رحم کا طالب

  ہے حشر کا دن حاضرِ دربار ہیں بندے

  

منور بدایونی


عاصم قریشی

 یوم پیدائش 02 دسمبر


نعت

ذکرِ احمدؐ پہ بات ہو جائے

تا کہ راضی وہ ذات ہو جائے


اب نہیں توبہ کی سکت مجھ میں

اب تو میری نجات ہو جائے


پہنچ جاؤں گا میں مدینے میں

میری قسمت جو ساتھ ہو جائے


جب وہؐ وللیل زلف لہرائیں

دن ڈھلے اور رات ہو جائے


اُس پسینےؐ میں بات ایسی ہے

سارے پھولوں کو مات ہو جائے


آپؐ ہم پر جو اک نظر کر دیں

ہم سے اندھوں سے نعت ہو جائے


نام انؐ کا ہو میرے ہونٹوں پر

پھر جو ہو میرے ساتھ ہو جائے


  عاصم قریشی


شیزا جلالپوری

 یوم پیدائش 02 دسمبر


اک بار کی نہیں ، ہے یہ ہر بار کی سزا 

تا عمر اب ملے گی مجھے پیار کی سزا 


جلنے لگا ہے طور کی مانند سارا جسم

کتنی حسین ہے ترے دیدار کی سزا 


سینچا ہے ہم نے اپنے لہو سے وطن کاباغ

اوردے رہے ہیں وہ ہمیں غدّار کی سزا 


جھوٹی محبتوں کا یہ انجام دیکھئے 

کچرے میں پھینک آئے ہیں وه پیارکی سزا 


معصوم تتلیوں کو مسلتے ہیں جو یہاں 

انکو تو ہونی چاہیئے بس دار کی سزا 


اے کاش مرے پاس چلا آئے چارہ گر

شیزا ہو کچھ تو کم دلِ بیمار کی سزا 


شیزا جلالپوری


امتیاز الحق امتیاز

 یوم پیدائش 02 دسمبر 1962


ہے کون میرے سامنے روپوش کون ہے 

گر تو نہیں تو مجھ سے ہم آغوش کون ہے 


پوچھا نہیں ہے یہ بھی کسی راہگیر نے 

یہ راہ میں پڑا ہوا بے ہوش کون ہے 


پہچان میری یہ ہے کہ محفل میں دیکھنا 

آواز کے ہجوم میں خاموش کون ہے 


دریا کو ایک قطرہ سمجھ کر جو پی گیا 

اس شہر میں یہ مجھ سا بلا نوش کون ہے


میں چیختا ہوں اور وہ سنتا نہیں مجھے 

اس کی شبیہ میں یہ گراں گوش کون ہے


کس نے یہ میری چاندنی راتیں خراب کیں

ڈھانپا ہے چاند کس نے سیہ پوش کون ہے


یہ کون امتیاز محبت پرست ہے

یہ صاحبِ غبار تن و توش کون ہے


امتیازالحق امتیاز


شہرت بخاری

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1925


وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے

یاد کرتے ہیں مگر لوگ فسانے تیرے


کاش وہ دن نہ کبھی آئے کہ تو آ جائے

راس آتے ہیں مرے جی کو بہانے تیرے


ایسی افتاد پڑی اپنی خبر بھی نہ رہی

ہم تو آئے تھے یہاں رنگ جمانے تیرے


کل چھپا رکھتے تھے خود سے بھی محبت اپنی

آج آئے ہیں تجھے داغ دکھانے تیرے


خلق کا دھیان ہٹاتے رہے کانٹے کیا کیا

راز افشا کیے سب باد صبا نے تیرے


درد کیا کیا نہ ملے شوق طلب سے اپنے

زخم کیا کیا نہ دیے ذوق حیا نے تیرے


جز ترے چاہنے والا تھا نہ ان کا کوئی

لوٹ کر آئے نہ شہرتؔ وہ زمانے تیرے


شہرت بخاری


حرمت الااکرام

 یوم پیدائش 02 دسمبر 1928


اس کے سوا کیا اپنی دولت

سوز تمنا درد بصیرت


اپنے علاوہ کون ملے گا

کس سے کرنے جائیں عداوت


سکوں کا بازار ہے دنیا

ملتی کیا احساس کی قیمت


ناخن دوراں اور غضب تھا

بھرتا بھی کیا زخم فراست


ہر دھڑکن افسانہ بن کر

کھول رہی ہے دل کی حقیقت


زخموں پھولوں کی یہ دنیا

دل کا جہنم آنکھ کی جنت


کتنے تجربے ایک تمنا

کتنے خواب اور ایک محبت


بتکدۂ فن تیری خاطر

گڑھتا ہوں تخئیل کی مورت


کرتے حرمتؔ کی غم خواری

غم نے کہاں دی اتنی مہلت


حرمت الااکرام


تاشی ظہیر

 یوم پیدائش 02 دسمبر 1947


حق پرستی کے سزاوار ہوا کرتے تھے

ہم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے


کوئی مذہب ہو کوئی رنگ ہو مل بیٹھتے تھے

دیس میں ایسے بھی تہوار ہوا کرتے تھے


پاس تہذیب تھا اک وہ بھی زمانہ تھا کبھی

میرے دشمن بھی مرے یار ہوا کرتے تھے


اس طرح تھک کے تو بیٹھا نہیں کرتے تھے ہم

راستے پہلے بھی دشوار ہوا کرتے تھے


اب تو سوکھے ہوئے پتوں کا بھرم رکھتے ہیں

ہم کبھی شاخ ثمر دار ہوا کرتے تھے


پگڑیاں قدموں میں رکھنے کا ہنر سیکھ گئے

ہم وہی ہیں جو سر دار ہوا کرتے تھے


تاشی ظہیر


کاشف احسن کاش قنوجی

 خود میں احساس ہمیشہ یہی زندہ رکّھا 

ہو گئے اس کے مگر خود کو پرایا رکّھا 


کسی کم ظرف سے مانگی نہیں امدار کبھی

ہم نے غربت میں بھی معیار کو اعلٰی رکّھا


جس کو بھی چاہا اسے ٹوٹ کہ چاہا ہر دم 

جس کو بھولے نہ اسے یاد دوبارہ رکّھا


عشق ہم نے بھی نبھایا ہے بڑی شدّت سے  

اس سے بچھڑے تو سدا خود کو اکیلا رکّھا 

  

  کاشف احسن "کاش قنّوجی




افسر ماہ پوری

 یوم پیدائش 01 دسمبر 1918


میرے لیے ساحل کا نظارا بھی بہت ہے

گرداب میں تنکے کا سہارا بھی بہت ہے


دم ساز ملا کوئی نہ صحرائے جنوں میں

ڈھونڈا بھی بہت ہم نے پکارا بھی بہت ہے


اپنی روش لطف پہ کچھ وہ بھی مصر ہیں

کچھ تلخئ غم ہم کو گوارا بھی بہت ہے


انجام وفا دیکھ لیں کچھ اور بھی جی کے

سنتے ہیں خیال ان کو ہمارا بھی بہت ہے


کچھ راس بھی آتی نہیں افسرؔ کو مسرت

کچھ یہ کہ وہ حالات کا مارا بھی بہت ہے


افسر ماہ پوری


ادیب ہزاروی

 یوم پیدائش 01 دسمبر 1985


کچھ بھی نہ رہا ! اور ہوا کچھ بھی نہیں

سب کچھ ہے مگر تیرے سِوا کچھ بھی نہیں


دل اُن کی محبت میں ہے بے چین بہت

بس غم کے سِوا جن سے ملا کچھ بھی نہیں 


اک دل ہے کہ جو جل کے ہوا راکھ مرا

سینے سے مگر اُٹھتا دُھواں کچھ بھی نہیں


ناکردہ خٙطا کی بھی سزا ہم کو ملی

کہتے ہی رہے ہم سے ہوا کچھ بھی نہیں 


وہ جن کے لیے خود کو بھی نیلام کیا 

شکوہ ہی رہا ! ہم نے دیا کچھ بھی نہیں


ادِیب ہزاروی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...